کوئلے کی کان کا ایک انوکھا حادثہ۔

کوئلے کی کان کا ایک انوکھا حادثہ۔

کوئلے کی کان کا ایک انوکھا حادثہ۔

تحریر: سرزمین افغانی
جنرل سیکرٹری پاکستان مائن ورکرز فیڈریشن۔

یوں تو کویلے کی کان میں کہی حادثات رونما ہو چکے ہیں، ایک حادثے میں تو 43 کانکن بیک وقت اپنی جان گنوا چکے ہیں لیکن مورخہ 10 نومبر 2019 کو خیبر ایجنسی میں رونما ہونے والا مائن حادثہ پاکستان مائننگ انڈسٹری کی تاریخ کا انوکھا حادثہ ہے۔ مائن نمبر 41 کالاخیل کول ماھینگ فیلڈ خیبر ایجنسی میں مؤرخہ10 نومبر 2019 کو ایک کان حادثہ رونما ہوا۔ کان میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس بھرنے کی وجہ سے ایک کانکن نیک محمد موقع پر ہی شھید ہوگئے۔ باقی ساتھی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی قریبی مایننگ فیلڈ میں کام کرنے والے سینکڑوں کانکن موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ درہ آدم خیل کول مائنز لیبر یونین کے رضاکار اور پاکستان مائن ورکرز فیڈریشن کے اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری جناب نور اللہ خان یوسفزئی، چراٹ کول مائننگ فیلڈ نوشہرہ سے امدادی ٹیم اپنے ساتھ لے کر جا حادثہ پر پہنچ گئے۔ اسی دوران حکومتی ریسکیو ٹیم بھی جاہ حادثہ پہنج گئی اور ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا۔ صوبائی وزیر معدنیات جناب امجد علی خان صاحب، وزیر اطلاعات و موجود وزیر محنت جناب شوکت یوسفزئی، متعلقہ انسپکٹرز ، مشیر ترقی معدنیات جناب احمد زئی صاحب اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے جاہ حادثہ کا دورہ کیا۔ نیک محمد شہید کی لاش کی ریکوری کے لیے آپریشن مسلسل 12 جنوری 2020 تک جاری رہا لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اسی دوران کلی کالاخیل میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سیاسی عماہدین، حکومتی اداروں کے اہلکار اور لیبر نمائندوں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں متعلقہ ادارے کے نمائندوں اور سیاسی قائدین کی رائے یہ تھی کہ متوفی کانکن کی لاش نہیں کالا جاسکتا لہٰذا جاہ حادثہ پر متوفی کی نماز جنازہ پڑھ کر ریکوری کا آپریشن ختم کیا جائے لیکن لیبر یونین اور فیڈریشن کے نمائندوں نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور اصرار کیا کہ ھم متوفی کانکن کی لاش نکالنے کے لیے آپریشن جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں وزیر معدنیات حکومت خیبر پختونخوا کے دفتر پشاور میں لیبر نمائندوں کے نمائندہ وفد کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیر معدنیات اور دیگر سیاسی نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ریکوری آپریشن کو چلانے کے لیے 8 افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں سب کے سب مائن ورکرز کے نمائندے شامل تھے، صرف ایک انسپکٹر آف ماہنز کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ پراگریس رپورٹ دینے کا پابند ہوگا۔ 12 جنوری 2020 تک جو ریکوری آپریشن کیا گیا، وہ مائن ورکرز کی اپنی مدد آپ اور بلا کسی اجرت کے کیاگیا لیکن اس کے بعد 8 مشاورتی نگران کمیٹی کے زیر اہتمام جو ریکوری آپریشن شروع کیا گیا اس کی جملہ اخراجات اور لیبر اجرت کی ادائیگی نگران کمیٹی نے لیبر چندے کی صورت میں ادائیگی کا ذمہ اٹھایا مزید یہ کہ متعلقہ ماین کے ٹھکداران نے بھی اپنے حالات کے مطابق ہر ممکن تعاون کیا۔ بلآخر 27 مارچ 2020 کو متوفی شہید نیک محمد کی لاش انڈر گراؤنڈ سے صحیح و سالم نکالی گئی اور اس کے آبائی گاؤں بنڑ تحصیل الپوری ضلع شانگلہ پہنچایا گیا جہاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی۔

اس حادثے کے مندرجہ ذیل نتائج اور اثرات برآمد ہوتے ہیں۔

(1) کالاخیل ماھینگ فیلڈ میں کل 51 ماہینز یا ہالجز پر کام ہوتا تھا۔ مائن کی عمودی ڈگری تقریباً 70 ڈگری یے۔ مختلف مائنز کے اندر حفاظتی قوانین کے تحت کام نہ ہو نے کے سبب کویلے کی سیم میں آگ لگانے سے زیادہ تر مائن بند ہو چکے تھے۔ مذکورہ ماین نمبر 41 جہاں حادثہ واقع ہوا کی متعصل مائن میں آگ لگنے سے مائن بند کیا گیا تھا اسی مائن کے اندر کاربن مونو آکسائیڈ گیس اور آگ موجود ہونے کی وجہ سے حادثے والے ماین نمبر 41 میں گیس اور دھواں تقریباً 900فٹ گہرائی میں نکل آیا جس سے حادثہ رونما ہوا۔

(2) قانون کے مطابق پیرارل دو مائن چلانا اور ہر پچاس فٹ گہرائی پر آپس میں ملانا لازمی ہے تاکہ تازہ ہوا کا موثر نظام قائم رکھا جا سکے۔ لیکن حادثے والے ماین میں اس اصول پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ مائن کا سائز اونچائی اور چوڑائی کم از کم 6 فٹ چوڑا اور 6 اونچا ہونا چاہیے لیکن ممتاثرہ ماین کا سائیز بہت کم تھا اور یہی وجہ تھی کہ ریسکیو اور ریکوری آپریشن ناکام رہا۔ ازسرنو 900 فٹ گہرائی تک متبادل پیرارل کھدائی کی گئی۔

(3) پاکستان ماھینگ انٹسٹری کی تاریخ میں اتنا طویل ماھینگ آپریشن اور 120 دن کے بعد ایک کانکن کی لاش صحیح و سالم نکالی گئی۔

(4) مائن ورکرز میں شعور و آگاہی کی کمی اور ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں جس کی تلافی ضروری ہے۔

(5) موروجہ انسپکشن سسٹم اور مائن ریسکیو سسٹم ناکام ہوچکا ہے اور اس پورے سسٹم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے.

Have your say