مائن ورکرز جو حادثات اور واقعات میں جانبحق ہوئے کے حوالے سے پاکستان مائن ورکرز فیڈریشن کا اعلامیہ

مائن ورکرز جو حادثات اور واقعات میں جانبحق ہوئے کے حوالے سے پاکستان مائن ورکرز فیڈریشن کا اعلامیہ

مختلف مایننگ فیلڈز میں جانبحق کانکنان کی تفصیل جو متعلقہ فیلڈز کے آرگنائزرز نے فراہم کی ہے، سیکرٹری اطلاعات پی-ایم-ڈبلیو-ایف نورالاسلام کی طرف سے یہ اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے
مورخہ 28-6-2020 کو اسد خان ولد عبدلواحد ساکن کوز گوکن ضلع بونیر۔
مورخہ 28-06-2020 کو وارث خان ولد سیف الملوک اینور پورن، ضلع شانگلہ بجار کول کمپنی چمالنگ، ضلع دکی، بلوچستان میں ہالج رسہ ٹوٹنے کی وجہ سے جانبحق ہوئے۔
مورخہ 3-7-2020 بخت زیب ساکن مونڈا، اپر دیر کانکن حسنین کول کمپنی شاہرگ، ضلع ہرنائی، بلوچستان کو دہشت گردوں نے قتل کیا۔
مورخہ 6-7-2020 محمد زیب ولد مشتبر ساکن کوزکانا ضلع شانگلہ، کانکن انڈس کول مائن ضلع حیدرآباد مائن حادثے میں جاں بحق ہوا۔
مورخہ 6-7-2020 کو کمال الدین ساکن چاگم پورن، ضلع شانگلہ ٹھکیدار جانزیب کوسٹ کول مائن میں مائن حادثے کی وجہ سے جانبحق ہوا۔
مورخہ 6-7-2020 سعید اللہ ولد نور محمد ساکن چاگم پورن، ضلع شانگلہ، ایم آر ایف کول کمپنی ڈنڈوٹ میں مائن حادثے کی وجہ سے جانحق ہوا۔
مورخہ 8-7-2020 کو پیر محمد ولد بختی ساکن بنڑ باسی، ضلع شانگلہ ورکر نوشم کول مائن ضلع دکی، بلوچستان میں دہشت گردوں نے قتل کیا۔
(مورخہ 9-7-2020 کو محمد زادہ ولد نور محمد ساکن باسی ضلع شانگلہ،
رحمانی گل ولد گل زادہ ساکن اولندر ضلع شانگلہ،
سرباز ولد داہمن ساکن اولندر ضلع شانگلہ، تینوں کانکنان ٹنڈی کول مائنز درہ آدم خیل، ضلع کوہاٹ میں گیس دھماکے کی وجہ سے جانبحق ہوئیں۔
پی ایم ڈبلیو ایف ان حادثات و واقعات پر نہایت تشویش کا اظہار کرتی ہیں۔ حادثات کی بنیادی وجہ مائن ورکرز میں شعور و آگاہی اور ٹریننگ کی کمی ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر ان میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لیے مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ حفاظتی قوانین پر موثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے حادثات و واقعات ہوتے ہیں۔
مارچ 2020 میں بھی شاہرگ، ضلع ہرنائی میں دو مائن ورکرز کو اغواء کر کے قتل کیا گیا تھا۔ متعلقہ ایف سی کمانڈر، مائن اونر اور ماین ورکرز کے نمائندوں نے فیصلہ کیا تھا کہ متعلقہ ریجن میں ایف سی مقررہ سیکورٹی ٹیکس کے علاؤہ کوئلہ ڈسپیج پر مزید فی ٹن 20 روپے وصول کرےگا اور اس فنڈ سے خدا نخواستہ دہشگردی کے واقعات میں جانبحق مزدور کے لواحقین کو پندرہ لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا لیکن اس معاہدے پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا اور اسی علاقے میں ایک اور مزدور کو دہشت گردوں نے قتل کیا۔ ایف سی کمانڈر سے اپیل ہے کہ شہید تین مزدوروں کے لواحقین کو معاہدے کے مطابق فی مزدور پندرہ لاکھ روپے ادا کرے اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنائیں۔ نوشم، ضلع دکی میں جو کانکن قتل کیا گیا ہے متعلقہ مائنز کمیٹی اور حکام سے اپیل ہے کہ مقتول مزدور کے لواحقین کو پندرہ لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنائیں۔

Have your say